یہ بھی اتفاق ہے آج مدرز ڈے ہے اور میری والدہ صالحہ اسی کراچی میں مدفون ہیں جہاں میں بغیر کسی منصوبے کے اچانک آگیا ہوں ۔ میرے تینوں بھائی علیل ہو گئے تھے ۔ روبہ صحت ہیں مگر علاج مکمل نہیں ہوا۔
میں گھریلو انسان کبھی نہیں رہا بلکہ ماضی میں والدین کو کبھی اتنا وقت نہیں دے سکا جتنا کہ ان کا حق تھا۔ اب یہ احساس کھائے جاتا ہے کہ ایسا کیوں کیا۔ جب دو بھائیوں کی شدید علالت کی خبر ملی تو اپنے آپ کو روک نہ سکا اور ہنگامی طور پر بھاگا چلا آیا اور اس بار پورا وقت اپنے خاندان کے لوگوں کو دے رہا ہوں۔
ایسے میں مجھے ماں بہت یاد آتی ہے۔ ایک تو یہ کہ میں کبھی گھنٹہ بھر ان کے پاس بیٹھتا نہیں تھا۔ مجھے پتہ نہیں وہ مجھ سے کیا کیا کہنا چاہتی ہوں گی۔ ہاں ایک بات کے بارے میں مجھے معلوم تھا۔ ہر ماں کی طرح ان کی تمنا تھی کہ میں اپنا گھر بسا لوں۔ چلتے پھرتے وہ کبھی کبھی اس خواہش کا اظہار کر دیتی تھیں اور میں اکثر ہنس کر ٹال دیتا تھا۔ کبھی میں نے سنجیدگی سے ان کو سمجھانے کی کوشش نہیں کی کہ ملازمت کے علاوہ جو میری مصروفیات ہیں ان کی وجہ سے میں اپنی شادی کے بارے میں ابھی سوچ بھی نہیں سکتا۔ میری زندگی کا مقصد تو اللہ نے کچھ اور ہی متعین کر دیا تھا۔ جب اماں نے یہ محسوس کر لیا کہ میں ان کو سنجیدہ نہیں لے رہا تو انہوں نے دیگر ذرائع سے مجھے approach کرنا شروع کر دیا۔ کبھی ڈاکٹر مطیع سے بات کرتیں اور کبھی جاوید منظور یا ظفر اور کبھی امتیاز سے۔ یہ دوست میرے دوسرے جنون کے بارے میں واقف تھے اس لئیے مجھ سے بات تو کرتے تھے مگر مجھ پر دباؤ نہیں ڈالتے تھے۔ میں سوچتا تھا کہ اگر کسی خاتون کو گھر لا کر بٹھا دیا تو کہیں وہ بھی والدین کی طرح مجھ سے نظر انداز نہ ہو جائے۔ مگر آج میں سوچتا ہوں کہ جس ماں نے مجھے جنم دیا اس کا کیا اتنا حق بھی نہیں تھا کہ وہ مجھے شادی پر آمادہ کرتی۔ صالحہ خاتون کی شادی کم عمری میں ہو گئی تھی۔ جب وہ بیاہ کر شہر سے گاؤں گئی تھیں تو ان کا دل بہلانے کے لئیے گاؤں کی ان کی ہم عمر لڑکیوں کو بلایا جاتا کہ وہ لوگ ان کے ساتھ گڑیا کھیلا کریں۔ پھر انہوں نے گاؤں کے لوگوں کے خطوط لکھنے اور پڑھ کر سنانے کی خدمت شروع کی۔ ارد گرد کی خواتین کے جھگڑے نمٹانے لگیں۔ جب اپنے تین بیٹوں کے ہمراہ میرے والدین مشرقی پاکستان ہجرت کر کے آئے تو والد نے کاشتکاری بھی شروع کی۔ میں پہلے کی تحریر ؤں میں بتا چکا ہوں کہ اماں والد کے ساتھ مل کر کس طرح غلے کو سکھایا کرتی تھیں۔ بچوں کی دیکھ بھال اور تعلیم و تربیت میں ذرہ برابر کوتاہی نہ کرتیں۔ تربیت کی ایک مثال یہ ہے۔ بڑا بیٹا باہر کھیلتا ہوا کسی کا کھلونا گھر لے آیا۔ اماں نے استفسار کیا۔ بیٹاتسلی بخش جواب نہ دے سکا۔ فورا” سزا ملی۔اور سزا بھی کیا؟ وہیں پر لکڑی کا چولہا جل رہا تھا۔ جلتی ہوئی لکڑی بیٹے کی ہتھیلی پر رکھ دی۔ آج کے لوگوں کو یہ حرکت ظالمانہ لگے گی مگر آج بھی بڑے بھائی قیام نظامی ایمانداری کی ایک مثال ہیں۔ یہ اماں کی تربیت ہی ہے کہ انہوں نے اب تک کئی کتابیں لکھ ڈالی ہیں ۔ دو اور شائع ہونے والی ہیں۔میری دعا ہے ان کو مکمل صحتیابی ملے اور وہ تخلیقی عمل مزید جاری رکھیں۔ اماں نے آگے چل کر دوسروں کی خدمت بھی شروع کی۔ کراچی آ کر اپنےپوتوں کے ساتھ غریب رشتہ داروں اور شناساؤُ ں کے پاس جا کر ان کی مدد کیا کرتی تھیں۔
مجھے یاد ہے میں یونیورسٹی اور بعد میں ملازمت پر جانے لگا تھا۔اکثر اوقات دفتر میں دیر ہو رہی ہوتی تھی۔ تیار ناشتے کے لئیے بھی وقت نہیں ہوتا تھا۔ میں آئینے کے سامنے کھڑا ٹائی باندھ رہا ہوتا اور وہ نوالے میرے منہ میں ڈال رہی ہوتی تھیں۔ میری مصروفیات—- اکثر رشتہ داروں کے ہاں تقریبات میں جانے کی فرصت نہیں ہوتی تھی۔ اماں اور ابا اپنے دیگر بچوں کے ساتھ جاتے۔ وہاں لوگ کہتے کہ آخر آپ کی سب اولاد آئی وہ کیوں نہیں آیا۔ اس وقت ا ماں یوں میرا دفاع کیا کرتیں کہ جو کام وہ کر رہا ہے یہ لوگ نہیں کر سکتے۔ اس لئیے ہم نےاسے چھوڑا ہوا ہے۔
مجھے ہر ہر لمحے یہ احساس کھائے جاتا ہے کچھ دیر اماں کے پاس بیٹھا ہوتا۔ ان کی ایک بات مان لیتا۔ میں نے شادی تو کی مگر ان کے جانے کے بعد۔
آج مدرز ڈے ہے۔ یہاں پاکستان میں شب قدر بھی ہے۔ میری اور اپنی ماں کی مغفرت کے لئیے دعا کیجئیے۔ جن کی مائیں حیات ہیں ان کی گود میں اپنا سر رکھ کر لیٹ جائیے۔ اللہ نہ کرے آپ کو بعد میں میری طرح پچھتانا پڑے۔
کراچی میں ہوں ۔ میں اپنی ماں کی قبر پر فاتحہ پڑھنے جاتا ہوں۔ جانے پھر مجھے اس کا موقعہ ملے نہ ملے۔